قومی تحریک یا چند گروہوں کا کاروبار؟

تحریر: دلجان ہوت

‎بلوچستان میں بدامنی اب ایک ایسا پیچیدہ کاروبار بن گیا ہے کہ ایک درجن کے قریب گروہ کسی نظریے کی پابندی کے بغیر عالمی طاقتوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور بدامنی کے ہر واقعے کا قیمت وصول کرتے ہیں۔ ہر گروہ اپنے بیرونی اسپانسرز سے ہدایات لیکر بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہے۔ بیرونی طاقتوں نے بلوچستان کی مخصوص جغرافیے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے نہ صرف نام نہاد قوم پرست شدت پسندوں سے روابط قائم کئیے بلکہ مذہبی شدت پسندی کی ڈوریاں بھی باہر ممالک سے ہلا کر بلوچستان میں واقعات رونما کروائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے اور سرمایہ کاروں کی دلچسپیوں کو زائل کرنے کے لئے پاکستان مخالف قوتیں مقامی شدت پسندوں کو ہر طرح کی مراعات فراہم کرکے ان سے اپنی پسند کی کاروائی کراتے ہیں۔
‎بلوچ شدت پسند تنظیموں کی کاروائیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ ان کاروائیوں کا مقصد صرف اور صرف چائنئیز سرمایہ کاری کو بلوچستان میں روکنا ہے۔ اس عمل کا فائدہ کسی بھی زاویے سے مقامی بلوچوں کو نہیں ہوگا البتہ انڈیا ان کاروائیوں سے براہ راست فائدہ اٹھاتا ہے کیونکہ انڈیا کئ چائنا اور پاکستان سے دشمنی ایک حقیقت ہے۔
‎بلوچ شدت پسند تنظیموں کی تمام گروہیں اب بیرونی ایجنسیز کے لئے دستیاب ہیں۔ انہی ایجنسیز نے مختلف گروہوں کو یکجا کرکے اب ان کو بلوچستان میں ترقیاتی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ یہ گروہیں بھی بلا سوچے سمجھے کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کو قتل گاہ بنا کر میڈیا میں اپنے حواریوں کے ذریعے یہ رونا روتے ہیں کہ بلوچستان کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا جا رہا ہے۔
‎رواں ہفتے بلوچستان میں تعمیراتی کمپنیوں پر حملوں میں شدت لائی گئی ہے جس کی وجہ سے اب تک نصف درجن کے قریب نہتے مزدوروں کو قتل کیا جا چکا ہے اور متعدد زخمی بھی کئے جا چکے ہیں۔ انتہائی فاشسٹ طرز عمل اپنا کر شدت پسند گروہیں سندھی اور پنجابی مزدوروں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ ملک کے اندر نسلی منافرت کو ہوا دیا جا سکے۔
‎ٹھنڈے دماغ سے سوچ لے تو بندہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ آزادی کے نام لیوا مسلح تنظیمیں حقیقی طور پر آزادی نہیں چاہتے بلکہ وہ انتشار اور خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان اندرونی طور پر کمزور اور خلفشار کا شکار ہو۔
‎بلوچستان کے نوجوان اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ تشدد کی تحریک نے محرومیوں کا ازالہ کرنے کے بجائے عوام کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس لئے شدت پسندوں کو بلوچستان میں اب کوئی پزیرائی حاصل نہیں۔ یہ حکومت کی زمہ داری ہے کہ وہ عام عوام کی فلاح و بہبود کے لئے شدت پسندی پر قابو پا لے تاکہ بلوچستان مزید عالمی سازشوں کی آماجگاہ نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں