بلوچ تنظیموں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی

تحریر/ راحمین محمد حسنی

ترقی و تعلیم کے اس دور میں جب چند بندوق بردار یہ دعویٰ کریں کہ وہ قتل و خون ریزی کے ذریعے سائنس اور ٹیکنالوجی کو فتح کریں گے تو یہ ایک انتہائی احمقانہ خیال ہے۔ بندوق بردار بدامنئ پھیلا کر اپنے اس عمل کو جب قومی تعمیر قرار دیں تو لوگ جان لیں کہ ایسے گروہوں سے بڑھ کر قوم دشمنی کوئی نہیں کررہا۔ اس جدید دور میں تشدد کی ناکامی ایک نوشتہ دیوار ہے، اس نوشتے کو جتنی جلدی پڑھا اور سمجھا جائے پرتشدد گروہوں کے لئے اتنا ہی بہتر و کارآمد ہوگا۔ لیکن شواہد یہی بتا رہے ہیں کہ بلوچستان میں مسلح تنظیموں نے عقل و دلیل کا دامن چھوڑ دیا ہے اور ان کے اسلحہ بردار بغیر کسی جنگی اخلاقیات اور انسانی حقوق کی پاسداری کے ہر شخص کو مار سکتے ہیں اور دیدہ دلیری سے اس قتل کی زمہ بھی لیتے ہیں۔ بلوچستان کے ہزاروں فرزندوں کو ان مسلح تنظیموں نے ایجنٹ یا قوم دشمن قرار دیکر قتل کردیا ہے۔ ڈاکٹروں، اساتذہ اور دیگر پروفیشنز سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگ مارے گئے ہیں۔ صرف چند لوگوں کو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ قوم دوستی و دشمنی کی سرٹیفیکیٹ بھانٹتے پھریں، لیکن وہ ایسا کررہے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں و جمہوریت کے علمبردار خاموش ہیں۔

اس بات میں کوئی دورائے کہ انسان کا قتل بلاجواز ہے۔ اور یہ عمل قطعی بلاجواز ہے کہ بیرون ملک روپوش گروہ کے کارندے رات کی تاریکی میں گھروں میں داخل ہوں اور خواتین بچوں کو بھی قتل کردیں اور الزام یہ لگا دیں کہ وہ قوم دشمن تھے۔ قوم دشمنی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ مسلح جتھوں نے بیس سال سے بلوچستان کو یرغمال کیے رکھا ہے۔ نہ سڑکوں کی تعمیر کی اجازت دی ہے اور نہ ہی بیرونی سرمایہ کاروں کو ایسا ماحول فراہم کرنے کی اجازت دی ہے کہ وہ آئیں اور مقامی بلوچوں کے حالات میں بہتری آئے۔ وہ اپنی ناک کی سیدھ میں جارہے ہیں اور باقی دنیا آسمانوں کے اسرار تلاش رہی ہے۔

ابھی چند دن پہلے ڈاکٹر اللہ نزر کی تنظیم کے کارندوں نے بالگتر ضلع کیچ میں ایک گھر کے اندر میاں بیوں کو نشانہ بنایا۔ ڈاکٹر اللہ نزر آزادی پسندوں کا روشن خیال نمائندہ ہے لیکن اس کے سوچ کی “تاریکی” اس واقعہ سمیت ہزاروں ایسے واقعات سے بخوبی واضح ہے۔ آزادی کے نام پر بننے والی تنظیموں نے بلوچستان کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے کہ اب بلوچستان میں وہ جس کو چاہیں قتل کریں کوئی آواز ان کے خلاف نہیں اٹھتا۔ سیاسی تنظیمیں اپنے درجنوں ارکان انہیں گروہوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے باوجود اب تک عوام کو ان مسلح تنظیموں کے خلاف موبلائز نہیں کرسکے ہیں۔ عوام جہاں مہنگائی سے تنگ ہے وہیں ان تنظیموں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار بھی ہے اور ایک مسیحا کے پیچھے جانے کو بھی تیار ہے، لیکن بلوچستان میں کوئی کارِ مسیحا کیوں کرے؟ یہاں کرپشن و کمیشن کے گرد سارے نظریات گھومتے ہیں۔ معاملہ چاہے مسنگ پرسنز کا ہو یا بدحالی کا، سیاستدانوں سے لیکر چھوٹی تنظیموں تک اب ان معاملات کو صرف پوائنٹ اسکورنگ و بلیک میلنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے مفاد پرستوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ عام لوگ کب تک ان مشکلات میں پھنسے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں