لاپتہ افراد کی بازیابی: لواحقین اور انسانی حقوق تنظیموں کی زمہ داریاں

تحریر: رحمین بلوچ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو لیکر متعدد گروہ ریاستی اداروں کے خلاف پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ لوگوں کی جبری گمشدگی یقیناََ ایک پریشان کن امر ہے، لیکن اصل صورت حال کو پس پُشت ڈال کر صرف مزید پڑھیں

بلوچ کلچر ڈے

گواچن اداریہ آج دو مارچ پاکستان سمیت دنیا بھر کے بلوچ بطور کلچر ڈے مناتے ہیں۔ بلاشبہ ہزار سالہ بلوچ تاریخ کے ارتقائی مراحل کے دوران بلوچ کلچر بھی مختلف مراحل سے گزر کر ایک توانا کلچر بن چکا ہے۔ مزید پڑھیں

لاپتہ افراد دھرنا ختم، تکلیف کس کو؟

گواچن اداریہ گزشتہ چند دنوں سے لاپتہ افراد کے چند خاندان اسلام آباد میں دھرنا دئیے بیٹھے تھے، جنہیں نہ صرف میڈیا کی توجہ حاصل تھی بلکہ حکومتی عہدے داروں اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین بھی متعدد بار مزید پڑھیں

کون بلوچستان میں مواصلاتی نظام نہیں چاہتا

تحریر: دلجان ہوت کل بروز بدھ دشت کے علاقے کُڈان میں ایک موبائل ٹاور پر نامعلوم افراد نے حملہ کردیا۔ حملے کے نتیجے میں ٹاور ناکارہ ہوگئی اور اس کے سولر پلیٹس بھی ان حملہ آوروں نے نظر آتش کردئیے۔ مزید پڑھیں

تربت میں گھر پر حملہ: ‎انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟

‎تربت میں گھر پر حملہ: ‎انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟ تحریر: ھنین جان ‎یہ سوال ایک عام شخص کو بھی ستاتا تھا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم لوگ اُن واقعات پر کیوں چھپ ہیں جو مزید پڑھیں

تشدد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ!

گواچن اداریہ غداری اور مخبری کے نام پر بلوچ عوام کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔ بلوچستان میں متحرک کالعدم تنظیمیں بزرگ و باعزت شہریوں کو آئے روز مختلف الزامات لگا کر قتل کررہےہیں۔ قوم فروشی و مزید پڑھیں

بلوچستان کے طلباء

گواچن اداریہ بلوچستان کو ماضی اور حال کی مسلح انسرجنسیوں نے اس نہج تک پہنچایا ہے کہ یہاں کے تمام سماجی ڈھانچے یا تو مکمل طور پر مفلوج ہو چکے ہیں یا پھر انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ بدامنی مزید پڑھیں

غدار!

تحریر/حلیم بلوچ بلوچستان میں غداری اور قوم دشمنی کے سرٹیفکیٹ بانٹ بانٹ کر مسلح تنظیموں نے تمام سیاسی قوتوں اور مختلف رائے رکھنے والی شخصیات کو دیوار کے ساتھ لگانے کی انتہائی کوشش کی ہے۔ ان کی اس زبردستی کرنے مزید پڑھیں

لوگ لاپتہ کیوں ہورہے ہیں؟

تحریر/حنین جان ‎بلوچستان میں آزادی کے نام پر جو شدت پسند ذہنیت پروان چڑھانے کی دو دہائی قبل کوشش کی گئی تھی، اس ذہنیت نے بلوچستان میں تمام شعبہ زندگی کے لوگوں کو منفی طور بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ مزید پڑھیں